Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Urdu Poetry

Yaom E Difa | Defense Day Poem By Naseem Khan

  Yaom Difa Budget Ki Taqseem Se Pehle  Hamare Jismoon Par  Parkaar Ghuma Diye Jaate Hain Hamare Izaafi Gosht Aur Haddiyoon  Ko Recycling Ke Liye Bhaij Diya Jata Hai Aur Hamare Sarr Mehfooz  Kar Liye Jaate Hain Naseem  Khan _________________________________________________________ یوم دفاع   بجٹ کی تقسیم سے پہلے ہمارے جمسوں پر پرکار گھمادئے جاتے ہیں ہمارے اضافی گوشت اور ہڈیوں کو ری سائیکلنگ کے لیے بھیج دیا جاتا ہے اور ہمارے سر محفوظ کر لیے جاتے ہیں ۔   نسیم خان

Kehnay Walae Kehtai Hain, New Sad Urdu Poetry By Miss Iqra Afia

Kehne Waale Kehte Hain Dasht Men Pagal Rehte Hain Chaand Bhi Sun Ke Jalta Hai Chaand Se Chehre Hote Hain Tera Hansna Dekheen To Maosam Thehra Karte Hain Zakham Lage Hain Phoolon Se Zakham Lage Hain Phooloon Se Jinko Paani Dete Hain Aankheen Meri Sasti Hain Aanso Tere Mahenge Hain Us Ke Shaher Ki Barish Men Phool Baraste Rehte Hain Wo Aik Nazar Dekheen To Hum Aankheen Parh Lete Hain Chirya Totay Mor Aur Wo Mujh Ko Apne Lagte Hain Un Pe Likhe SHair Iqra Kuch Aur Ache Hote Hain Poetry By: Iqra Afia

Ye Zindgi Kisi Gunge Ka Khuwab Hai Beta By Rahat Indori | Rahat Indori Ghazal

راحت اندوری یہ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﻮﻧﮕﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﺎ کہ ﺭستہ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﭘُﺮﺍﻧﮯ ﻗﻠﻌﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﮕﺮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻘﺪﺭ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ میری ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺭِ ﺛﻮﺍﺏ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺵ ﮐﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﮍﮬﯿﻮﮞ پہ نہ ﭼﮍﮪ کہ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺧُﺪﺍ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺻﺤﻦ ﮐﯽ ﻣﮩﻨﺪﯼ پہ ﮨﮯ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ   راحت اندوری

Maan (Mother) Main Aya Tha Mother's Day Special By Gulzar | Khuwab Naak Afsane

ماں میں آیا تھا تری پیروں کی مٹی کو، میں آنکھوں سے لگانے کو وصل کے گیت گانے کو، ہجر کے گیت گانے کو ترے جہلم کے پانی میں نہانے کو ترے میلوں کے ٹھیلوں میں جھمیلوں میں، میں خوش ہونے اور ہنسنے کو اور رونے کو میں وہی میلا کچیلا کالڑا بچہ نیلم کی ندی میں خود کو دھونے کو میں آیا تھا شکاری تاک میں تھے پر ہجر کے شجر پر بیٹھے پرندے کی طرح میں لوٹ آیا تھا وطن کے آسمانوں کو، ندی نالوں، درختوں اور ڈالوں کو یہ ستر برس پہلے کی کہانی ہے، جلاوطنی کی لمبی رات ہے صدیوں کو جاتی ہے، وہاں سے ٹرین آتی ہے دکھوں کے دھندلکوں میں شام میں لپٹی ہوئی یادوں کی ریکھاؤں ریلوے کی پٹڑیوں پہ جھلملاتی ہیں یہ ستر برس پہلے کی کہانی ہے میرے گاؤں کے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں رکھی شیشم کی ٹیبل پر کوئی بھولا ہوا ناول ملا تھا زندگی کا جو کوئی بھولا ہوا بھٹکا مسافر بھول گیا تھا میں وہ ناول بھول آیا پر میں ویٹنگ روم اپنے ساتھ لایا تھا یہ ستر برس پہلے کی کہانی ہے ویٹنگ روم میں بھولا ہوا ناول وہ میں ہی تھا میں چھوٹا تھا، میں پونے سات برسوں کا اک بچہ تھا یہیں دینے کی گلیوں میں وہی م...

Poem, Operation Raddul Fasad By Muhammad Moghirah Siddique

  اس نے مجھے میرے خوابوں میں یرغمال بنا رکھا ہے .  اس نے مجھے میرے خوابوں میں ڈرا رکھا ہے . دھشت گردی کرتا ہے آکے  وہ میرے خوابوں میں . جاگتے میں میں نے بھی اک پلان بنا رکھا ہے . کہ پاک فوج نے بھی ملک میں  آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے . اب کی بار میں بھی بلاؤں گا رینجرز والوں کو . آکے وہ میرے خوابوں میں پکڑیں گے اسے . ردافساد کی کی خاطر میں نے بھی اپنا نکاح رینجرز والوں کے ہاتھوں پڑھوانے  کا ارادہ بنا رکھا ہے . راز کی باتیں  

Poem Main Sakht Bezaar Rehta Hon By Yasir Gohar

  میں سخت بیزار رہتا ہوں محبت نیلا تھوتھا ہے زہر ہے   مجھے میری نفرتوں سے مراسم بڑھانے ہیں   مذھبی دوستوں کے ساتھ گزارا اکتاہٹ کا لمحہ اس کا ٸ نات کا سب سےبدنما لمحہ ہے   مجھے گالیوں کے ورد میں دفن کیا جا ۓ کہ اس سے زیادہ پر خلوص چیز آج تک دریافت نہیں ہو ٸ ی   میں جن جن دوستوں کی محبوبا ٶ ں کو جنسی وحشت میں سوچتا رہتا ہوں وہ سب میرے جنازے   میں شریک ہونے کا شرعی حق رکھتے ہیں   یاسر گوہر

Poem: Dhool Men Dhmalta Diyota By Yasir Gohar

  دھول میں دھمالتا دیوتا جزیرے خشک سمندروں کی پوجا کر کے بڑھاپے کے نشان ماتھے پہ لپیٹے سادھو   بَن ہواؤں میں ننگے بدن دھمالتے ہیں! تمہارے نام کا ایک خدا میری آنکھوں میں گھومتا ہے تو ہزاروں مدوجزر چاند کو چیر دیتے ہیں تاریک گلیاں معدے کے السر سے بھری روشنیوں کی دھول پھانکتی ہیں یاسر گوہر

Poem Gotam ka Akhri Wa'az By Aslam Ansari

  اسلم انصاری کی بے بدل کمال نظم صرف صاحبان ذوق کی نظر گوتم کا آخری وعظ   مرے عزيزو مجھے محبت سے تکنے والو مجھے عقيدت سے سننے والو مرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنيا بسانے والو مرے الم آفريں تکّلم سے انبساطِ تمام کی لازوال شمعيں جلانے والو بدن کو تحليل کرنے والی رياضتوں پرعبور پائے ہوئے،سکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھنے والو، عزيز بچّو، ميں بجھ رہا ہوں مرے عزيزو، ميں جل چکا ہوں مرے شعورِ حيات کا شعلہء جہاں تاب بجھنے والا ہے مرے کرموں کی آخری موج ميری سانسوں ميں گھل چکی ہے ميں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگيا ہوں تو سن رہے ہو، مرے عزيزو، ميں جا رہا ہوں ميں اپنے ہونے کا داغ آخر کو دھو چلا ہوں کہ جتنا رونا تھا، رو چلا ہوں   مجھے نہ اب انت کی خبر ہے، نہ اب کسی چيز پر نظر ہے ميں اب تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ نيستی کے، سکوتِ کامل کے جہلِ مطلق، (کہ مطلق ہے) ، جہلِ مطلق کے بحرِ بے موج سے ملوں گا تو انت ہوگا اس التباسِ حيات کا، جو تمام دکھ ہے !! ميں دکھ اٹھا کر، مرے عزيزو، ميں دکھ اٹھا کر حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھ...

Poem By Muhammad Moghira Siddique | Raaz Ki Batain

  سفید کپڑوں پہنے میرے انتظار میں بیٹھی اک خوش شکل لڑکی۔۔۔۔ جسے دیکھ۔۔۔ جنتی مرد۔۔۔۔ اپنی حوریں قربان کر دیں۔۔۔۔ اس نے مجھے پیغام بھیجا ہے خود کو مجھ پہ کرکے قربان بھیجا ہے۔۔۔۔ فقط اتنا کہا میں نے۔۔۔۔۔ میں پہلے کسی اور کے نام کی مالا پہنے۔۔۔۔۔   اس کی یاد میں پاگل ہوں۔۔۔۔   محمدمغیرہ صدیق

Poem andhere Men By Muhammad Moghira Siddique | Raaz Ki Batain

  نظم: اندھیرے میں آبھی جاؤ اب ، دھند تو نہیں ہے پر کوئی بھی نہیں دیکھے گا میں اب ، اندھیرے میں راز نہیں کھلتے   کبھی بھی اندھیرے میں آؤ کہ اب ہم ، اک دوسرے کے ساتھ۔۔۔۔ بہت سے راز دریافت کریں اندھیرے میں۔۔ میری جاں۔۔۔ ہمارا اک راز کہ ۔۔۔ تمہیں ڈر نہیں لگتا ، میرے ساتھ اندھیرے میں۔۔ اور بھی کئی راز   دریافت کریں گے ہم اندھیرے میں۔۔ سنو۔۔۔ نہیں بتاؤں گا ہمارے راز کسی بھی اندھیرے میں۔۔۔ اپنی نظموں میں ن ی لکھوں گا یہ راز کبھی بھی اندھیرے میں تمہی کو راز بنا کے رکھوں گا ہمیشہ اندھیرے میں تمہی کو سب سے چھپا کے رکھوں گا ہمیشہ اندھیرے میں محمد مغیرہ صدیق

Poem Mujasmoon Ka Shaher By Yasir Gohar | Yasir Gohar Poem 1

  مجسموں کا شہر چیخوں سے بھرا ہوا ہے زندگی کا منظر سسکیوں کے سر سے دوپٹے کھینچ اتار دیئے گئے ہیں ننگی آنکھوں میں طبلوں کی تھاپ اور سارنگی کی لئے سے لے کر  گھنگروؤں کی جھنکار تک  موت کی برہنہ رقاصہ مگن جھومتی ہے سارا شہر نیلی دھند کی چھتری تلے دفن ہے  اور ہر موڑ پر  مجسمے ہونٹوں میں سگار دبائے جھوم رہے ہیں یاسر گوہر

Poem Halqe By Riffat Jabeen

  حلقے مجھے بولا گیا ہے کہ میری آنکھ کے نیچے حلقے ہیں اور پوچھا گیا ہے کہ بی بی یہ کاہے کو پڑتے ہیں میرے پیارے سوال پوچھنے والے!!! میرے کمرے میں رات آتی ہے جو گزرنے میں نہیں آتی جو بڑی لمبی ،کالی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرنے میں نہیں آتی آنکھ جھپکنے میں سو جانے والو !خوش نصیبو ! تمہیں معلوم کیا کہ رات کتنی لمبی ہوتی ہے مجھے روز اپنے آپ سے بات کرنی ہوتی ہے اور خود سروں سے بات کتنی لمبی ہوتی ہے؟؟ اور ایک چڑیل شام ڈھلے سے پھرنے لگتی ہے بال کھولے، دانت نکو سے پھرنے لگتی ہیے سونے لگو تو پنجے گاڑ جاتی ہے اک اک خواب اجاڑ جاتی ہے امید کا جو دیا جلا کے جاتی ہوں پکڑ کے اکھاڑ جاتی ہے اور اس سمے میں کھینچ کر لے جاتی ہے جب میں مر گئی تھی۔۔۔۔۔ مجھے میرا مرا منہ دکھاتی ہے مجھے اس سمے سے ڈراتی ہے تو پھر یوں ہے میرے حبیب کہ مجھے ڈر لگتا ھے تو پھر یوں ھے میرے حبیب کہ حلقہ پڑتا ہے رفعت جبیں  

Muhabbat Poem By Shahid

  پتہ ہے کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ ہم ایویں محبت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔۔ حالانکہ محبت تو ہمارے پاس ہوتی ہے.. لیکن ہمیں نظر نہیں آتی۔۔ اور لاحاصل محبت، یکطرفہ محبت ہمیں اندھیرے میں بھی کسی چمکتی چیز کی طرح نظر آ جاتی ہیں۔۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم خود ہی خوش نہیں رہنا چاہتے۔۔ کیونکہ خوشی بھی تو تبھی ہوتی ہے جب ہم محبت کے پیچھے بھاگنا بند کر کے حاصل کر لیں۔۔   😷😷 میری جتنے بھی لوگوں سے بات ہوئی، مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ کہیں نہ کہیں ہم سب کا مسئلہ محبت ہے۔۔ کسی کی یکطرفہ محبت۔۔ تو کسی کی دو طرفہ محبت ۔۔ لیکن مسئلہ ایک ہی ہے محبت۔۔   لیکن کیوں محبت کیوں   ؟؟؟ مجھے یہی مسئلہ زہر لگتا ہے محبت مجھے اِسی مسئلے محبت پر لکھنا زہر لگتا ہے یہی مسئلہ ہر بار نیا لگتا ہے شاہد

Takhleeq Kaar Ki Maot By Yasir Gohar

  تخلیق کار کی موت وہ اپنے بدنما ہاتھوں سے خدا کے خدوخال سینچتا ہے اور رب کی بارگاہ میں اپنے برش اور رنگوں کے ڈبوں کے حمل گرا دیتا ہے وہ وقت تخلیق کرتا ہے اس میں سفید رنگ بھرتا ہی ۔۔ کینوس ابسٹریکٹ ہو جاتا ہے اور چیخیں مارتا ہے وہ اپنی محبوبا ٶ ں کے ننگے خواب آنکھوں میں بھرتا ہے اور آنکھیں پینٹ کر دیتا ہے وہ اپنی غلیظ نظموں پر تھوکتا ہے ان سے ساری رات ہمبستری کرتا ہے اور ان کے مخمور جسموں کے ٹکرے دانتوں سے اٹھا کر کاغذ کے گٹر میں بہا دیتا ہے اسے تخلیق کے نام سے نفرت ہے اور تخلیق اسکی ان بی اہی   سہاگن ہے وہ جھولتی ہوئی لاشوں کے انبار اکٹھے کرتا ہے افسانوں کو کرداروں سے بھرتا ہے اور ویران سڑکوں پر کپڑے اتار کر بھاگنے لگتا ہے وہ سانسوں کے ریشے کلائےمکس کے ٹوکے سے الگ کرتے کرتے کسی نامکمل ناول کے آخری سین کی نبض تھام لیتا ہے اسکی تصویر لاکھوں کی بکتی ہے ۔۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ادیب بن جاتا ہے اسکی شاعری یونیورسٹیوں کے سلیبس کا حصہ بنتی ہے ۔۔۔ یاسرگوہر

So We'll Go No More a Roving BY LORD BYRON GEORGE GORDON IN URDU

  اب نہ جائیں گے آوارہ خرامی کے لیے شاعر : لارڈ بائرن   برطانیہ مترجم : یوسف جمال انصاری اب نہ جائیں گے آوارہ خرامی کے لیے اس قدر رات گئے دل تو مچلا ہے محبت کی تسلی کے لیے ضوفشاں چاند بھی ہے برش تیغ سے ہوجاتا ہے صد پارہ نیام تپش روح سے سینہ چھلنی سانس لینے میں بھی درکار ہے دل کو آرام کسی لمحے تو سکوں عشق کو بھی ہے تو یہ رات کی تسلی کے لیے دن نکلنے میں بھی اب وقت ہے کم پھر بھی جائیں گے نہ آوارہ خرامی کے لیے اس حسین بارش مہتاب میں ہم Original Version: So We'll Go No More a Roving BY LORD BYRON (GEORGE GORDON) So, we'll go no more a roving So late into the night, Though the heart be still as loving, And the moon be still as bright. For the sword outwears its sheath, And the soul wears out the breast, And the heart must pause to breathe, And love itself have rest. Though the night was made for loving, And the day returns too soon, Yet we'll go no more a roving By the light of the moon.  

Kehnay Walae Kehtai Hain, By Miss Iqra Afia

کہنے والے کہتے ہیں  Kehne Wale Kehte Hain  Iqra Afia کہنے والے کہتے ہیں  Kehne Wale Kehte Hain دشت میں پاگل رہتے ہیں Dasht Men Pagal Rehte Hain چاند بھی سن کے جلتا ہے Chaand Bhi Sun Ke Jalta Hai چاند سے چہرے ہوتے ہیں Chaand Se Chehre Hote Hain تیرا ہنسنا دیکھیں تو Tera Hansna Dekhain To موسم ٹھہرا کرتے ہیں Maosam Tehra Karte Hain زخم لگے ہیں پھولوں سے Zakham Lage Hain Phooloon Se زخم لگے ہیں پھولوں سے Zakham Lage Hain Phooloon Se جنکو پانی دیتے ہیں Jinko Paani Dete Hain آنکھیں میری سستی ہیں Aankhain Meri Sasti Hain آنسو تیرے مہنگے ہیں Aansu Tere Mahenge Hain اسکے شہر کی بارش میں  Uske Shaher Ki Barish Men پھول برستے رہتے ہیں Phool Baraste Rehte Hin وہ ایک نظر دیکھیں تو Wo Aik Nazar Dekhain To ہم آنکھیں پڑھ لیتے ہیں Hum Aankhain Parh Lete Hain چڑیا طوطے مور اور وہ Chirriya Totay Aur Wo مجھکو اپنے لگتے ہیں Mujhko Apne Lagte Hain ان پہ لکھے شعر اقراء Un ...

Purani Yadain, Punjabi Kalaam By Fozia Qureshi | Banda Bole Mera Mera, Kaon Jane ae Kiss Da Punjabi Poem By Fozia Qureshi

 میرا پنجابی کلام  Mera Punjabi Kalam پرانی یادیں Purani Yadain فوزیہ_قریشی Fozia Qureshi بندہ بولے میرا میرا  Banda Bole Mera Mera بندہ بولے میرا میرا  Banda Bole Mera Mera کون جانے اے کس دا  Kaon Jane Ay Kiss Da چھڈ دے بندیا میری تیری  Chadd De Bandeya Teri Meri ہتھ وچ کج نی آناں  Haath Wich Kujh Nai Aana آخر بندیا کلیاں کلیاں  Aakhir Bandeya Kaliyaan Kaliyaan دنیا تو ٹر جاناں  Duniya Toon Turr Jana کر لے کوشش بندیا اپنی  Kar Le Koshish Bandeya Apni چھڈ دے باقی کھیڑا  Chadd De Baqi Kherra اے دنیا اے چار دناں دی  Ay Dunya Hai Chaar Diyaan Di پا نہ کوئی بکھیڑا Paa Na Koi Bakherra نہ کج اتھے تیرا ھے تے Na Kujj Ethay Tera Hai Te نہ کج اتھے میرا Na Ethe Kujj Mera اپنا نفس سنبھال لے بندیا Apna Nafs Sambhaal Le Bandeya  چھڈ دے باقی کھیڑا Chadd De Baaqi Kherra باہر چاتی ماراں تے  Baahar Chaati M...