Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Sher-o-Shayari

Poem, Operation Raddul Fasad By Muhammad Moghirah Siddique

  اس نے مجھے میرے خوابوں میں یرغمال بنا رکھا ہے .  اس نے مجھے میرے خوابوں میں ڈرا رکھا ہے . دھشت گردی کرتا ہے آکے  وہ میرے خوابوں میں . جاگتے میں میں نے بھی اک پلان بنا رکھا ہے . کہ پاک فوج نے بھی ملک میں  آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے . اب کی بار میں بھی بلاؤں گا رینجرز والوں کو . آکے وہ میرے خوابوں میں پکڑیں گے اسے . ردافساد کی کی خاطر میں نے بھی اپنا نکاح رینجرز والوں کے ہاتھوں پڑھوانے  کا ارادہ بنا رکھا ہے . راز کی باتیں  

Poem Main Sakht Bezaar Rehta Hon By Yasir Gohar

  میں سخت بیزار رہتا ہوں محبت نیلا تھوتھا ہے زہر ہے   مجھے میری نفرتوں سے مراسم بڑھانے ہیں   مذھبی دوستوں کے ساتھ گزارا اکتاہٹ کا لمحہ اس کا ٸ نات کا سب سےبدنما لمحہ ہے   مجھے گالیوں کے ورد میں دفن کیا جا ۓ کہ اس سے زیادہ پر خلوص چیز آج تک دریافت نہیں ہو ٸ ی   میں جن جن دوستوں کی محبوبا ٶ ں کو جنسی وحشت میں سوچتا رہتا ہوں وہ سب میرے جنازے   میں شریک ہونے کا شرعی حق رکھتے ہیں   یاسر گوہر

Poem: Dhool Men Dhmalta Diyota By Yasir Gohar

  دھول میں دھمالتا دیوتا جزیرے خشک سمندروں کی پوجا کر کے بڑھاپے کے نشان ماتھے پہ لپیٹے سادھو   بَن ہواؤں میں ننگے بدن دھمالتے ہیں! تمہارے نام کا ایک خدا میری آنکھوں میں گھومتا ہے تو ہزاروں مدوجزر چاند کو چیر دیتے ہیں تاریک گلیاں معدے کے السر سے بھری روشنیوں کی دھول پھانکتی ہیں یاسر گوہر

Poem Gotam ka Akhri Wa'az By Aslam Ansari

  اسلم انصاری کی بے بدل کمال نظم صرف صاحبان ذوق کی نظر گوتم کا آخری وعظ   مرے عزيزو مجھے محبت سے تکنے والو مجھے عقيدت سے سننے والو مرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنيا بسانے والو مرے الم آفريں تکّلم سے انبساطِ تمام کی لازوال شمعيں جلانے والو بدن کو تحليل کرنے والی رياضتوں پرعبور پائے ہوئے،سکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھنے والو، عزيز بچّو، ميں بجھ رہا ہوں مرے عزيزو، ميں جل چکا ہوں مرے شعورِ حيات کا شعلہء جہاں تاب بجھنے والا ہے مرے کرموں کی آخری موج ميری سانسوں ميں گھل چکی ہے ميں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگيا ہوں تو سن رہے ہو، مرے عزيزو، ميں جا رہا ہوں ميں اپنے ہونے کا داغ آخر کو دھو چلا ہوں کہ جتنا رونا تھا، رو چلا ہوں   مجھے نہ اب انت کی خبر ہے، نہ اب کسی چيز پر نظر ہے ميں اب تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ نيستی کے، سکوتِ کامل کے جہلِ مطلق، (کہ مطلق ہے) ، جہلِ مطلق کے بحرِ بے موج سے ملوں گا تو انت ہوگا اس التباسِ حيات کا، جو تمام دکھ ہے !! ميں دکھ اٹھا کر، مرے عزيزو، ميں دکھ اٹھا کر حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھ...

Poem By Muhammad Moghira Siddique | Raaz Ki Batain

  سفید کپڑوں پہنے میرے انتظار میں بیٹھی اک خوش شکل لڑکی۔۔۔۔ جسے دیکھ۔۔۔ جنتی مرد۔۔۔۔ اپنی حوریں قربان کر دیں۔۔۔۔ اس نے مجھے پیغام بھیجا ہے خود کو مجھ پہ کرکے قربان بھیجا ہے۔۔۔۔ فقط اتنا کہا میں نے۔۔۔۔۔ میں پہلے کسی اور کے نام کی مالا پہنے۔۔۔۔۔   اس کی یاد میں پاگل ہوں۔۔۔۔   محمدمغیرہ صدیق

Poem andhere Men By Muhammad Moghira Siddique | Raaz Ki Batain

  نظم: اندھیرے میں آبھی جاؤ اب ، دھند تو نہیں ہے پر کوئی بھی نہیں دیکھے گا میں اب ، اندھیرے میں راز نہیں کھلتے   کبھی بھی اندھیرے میں آؤ کہ اب ہم ، اک دوسرے کے ساتھ۔۔۔۔ بہت سے راز دریافت کریں اندھیرے میں۔۔ میری جاں۔۔۔ ہمارا اک راز کہ ۔۔۔ تمہیں ڈر نہیں لگتا ، میرے ساتھ اندھیرے میں۔۔ اور بھی کئی راز   دریافت کریں گے ہم اندھیرے میں۔۔ سنو۔۔۔ نہیں بتاؤں گا ہمارے راز کسی بھی اندھیرے میں۔۔۔ اپنی نظموں میں ن ی لکھوں گا یہ راز کبھی بھی اندھیرے میں تمہی کو راز بنا کے رکھوں گا ہمیشہ اندھیرے میں تمہی کو سب سے چھپا کے رکھوں گا ہمیشہ اندھیرے میں محمد مغیرہ صدیق

Poem Mujasmoon Ka Shaher By Yasir Gohar | Yasir Gohar Poem 1

  مجسموں کا شہر چیخوں سے بھرا ہوا ہے زندگی کا منظر سسکیوں کے سر سے دوپٹے کھینچ اتار دیئے گئے ہیں ننگی آنکھوں میں طبلوں کی تھاپ اور سارنگی کی لئے سے لے کر  گھنگروؤں کی جھنکار تک  موت کی برہنہ رقاصہ مگن جھومتی ہے سارا شہر نیلی دھند کی چھتری تلے دفن ہے  اور ہر موڑ پر  مجسمے ہونٹوں میں سگار دبائے جھوم رہے ہیں یاسر گوہر

Poem Halqe By Riffat Jabeen

  حلقے مجھے بولا گیا ہے کہ میری آنکھ کے نیچے حلقے ہیں اور پوچھا گیا ہے کہ بی بی یہ کاہے کو پڑتے ہیں میرے پیارے سوال پوچھنے والے!!! میرے کمرے میں رات آتی ہے جو گزرنے میں نہیں آتی جو بڑی لمبی ،کالی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرنے میں نہیں آتی آنکھ جھپکنے میں سو جانے والو !خوش نصیبو ! تمہیں معلوم کیا کہ رات کتنی لمبی ہوتی ہے مجھے روز اپنے آپ سے بات کرنی ہوتی ہے اور خود سروں سے بات کتنی لمبی ہوتی ہے؟؟ اور ایک چڑیل شام ڈھلے سے پھرنے لگتی ہے بال کھولے، دانت نکو سے پھرنے لگتی ہیے سونے لگو تو پنجے گاڑ جاتی ہے اک اک خواب اجاڑ جاتی ہے امید کا جو دیا جلا کے جاتی ہوں پکڑ کے اکھاڑ جاتی ہے اور اس سمے میں کھینچ کر لے جاتی ہے جب میں مر گئی تھی۔۔۔۔۔ مجھے میرا مرا منہ دکھاتی ہے مجھے اس سمے سے ڈراتی ہے تو پھر یوں ہے میرے حبیب کہ مجھے ڈر لگتا ھے تو پھر یوں ھے میرے حبیب کہ حلقہ پڑتا ہے رفعت جبیں  

Muhabbat Poem By Shahid

  پتہ ہے کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ ہم ایویں محبت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔۔ حالانکہ محبت تو ہمارے پاس ہوتی ہے.. لیکن ہمیں نظر نہیں آتی۔۔ اور لاحاصل محبت، یکطرفہ محبت ہمیں اندھیرے میں بھی کسی چمکتی چیز کی طرح نظر آ جاتی ہیں۔۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم خود ہی خوش نہیں رہنا چاہتے۔۔ کیونکہ خوشی بھی تو تبھی ہوتی ہے جب ہم محبت کے پیچھے بھاگنا بند کر کے حاصل کر لیں۔۔   😷😷 میری جتنے بھی لوگوں سے بات ہوئی، مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ کہیں نہ کہیں ہم سب کا مسئلہ محبت ہے۔۔ کسی کی یکطرفہ محبت۔۔ تو کسی کی دو طرفہ محبت ۔۔ لیکن مسئلہ ایک ہی ہے محبت۔۔   لیکن کیوں محبت کیوں   ؟؟؟ مجھے یہی مسئلہ زہر لگتا ہے محبت مجھے اِسی مسئلے محبت پر لکھنا زہر لگتا ہے یہی مسئلہ ہر بار نیا لگتا ہے شاہد

Takhleeq Kaar Ki Maot By Yasir Gohar

  تخلیق کار کی موت وہ اپنے بدنما ہاتھوں سے خدا کے خدوخال سینچتا ہے اور رب کی بارگاہ میں اپنے برش اور رنگوں کے ڈبوں کے حمل گرا دیتا ہے وہ وقت تخلیق کرتا ہے اس میں سفید رنگ بھرتا ہی ۔۔ کینوس ابسٹریکٹ ہو جاتا ہے اور چیخیں مارتا ہے وہ اپنی محبوبا ٶ ں کے ننگے خواب آنکھوں میں بھرتا ہے اور آنکھیں پینٹ کر دیتا ہے وہ اپنی غلیظ نظموں پر تھوکتا ہے ان سے ساری رات ہمبستری کرتا ہے اور ان کے مخمور جسموں کے ٹکرے دانتوں سے اٹھا کر کاغذ کے گٹر میں بہا دیتا ہے اسے تخلیق کے نام سے نفرت ہے اور تخلیق اسکی ان بی اہی   سہاگن ہے وہ جھولتی ہوئی لاشوں کے انبار اکٹھے کرتا ہے افسانوں کو کرداروں سے بھرتا ہے اور ویران سڑکوں پر کپڑے اتار کر بھاگنے لگتا ہے وہ سانسوں کے ریشے کلائےمکس کے ٹوکے سے الگ کرتے کرتے کسی نامکمل ناول کے آخری سین کی نبض تھام لیتا ہے اسکی تصویر لاکھوں کی بکتی ہے ۔۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ادیب بن جاتا ہے اسکی شاعری یونیورسٹیوں کے سلیبس کا حصہ بنتی ہے ۔۔۔ یاسرگوہر

Poem Politics By William Butler Yeats in Urdu Translation | W.B. Yeats Poem Politics in Urdu

  نظم : Politics شاعر: ولیم بٹلر ییٹس۔۔۔۔۔۔ W.B.Yeats...... شاعر: ولیم بٹلر ییٹس۔۔۔۔۔۔ W.B.Yeats...... میری بیتے زمانے کی محبوبہ جو میرے سامنے کھڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛؛؛ میری توجہ روم اور روس کی سیاست پر نہیں اور نہ ہی مجھے ہسپانیہ کی صورتحال سے کوئی سروکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تجربے کار شخص جس نے اپنی زندگی سفر میں گزاری ہو وہ شاید اس بارے زیادہ جانتا ہو یا پھر وہ سیاست دان جو دانشمند اور مفکر بنا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ تمہیں اس بارے زیادہ بہتر بتا سکے۔ ہو سکتا ہے جو وہ کہتے ہیں سچ ہو؛ جنگ اور اس کے خطرات کے بارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میری یہی آرزو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوست ! کہ میں پھر سے جوان ہو کر اس کو بانہوں میں اٹھا لوں۔ How can I, that girl standing there, My attention fix On Roman or on Russian Or on Spanish politics, Yet here's a travelled man that knows What he talks about, And there's a politician That has both read and thought, And maybe what they say is true Of war and war's alarms, But O that I were young again And held her in my ...

Purani Yadain, Punjabi Kalaam By Fozia Qureshi | Banda Bole Mera Mera, Kaon Jane ae Kiss Da Punjabi Poem By Fozia Qureshi

 میرا پنجابی کلام  Mera Punjabi Kalam پرانی یادیں Purani Yadain فوزیہ_قریشی Fozia Qureshi بندہ بولے میرا میرا  Banda Bole Mera Mera بندہ بولے میرا میرا  Banda Bole Mera Mera کون جانے اے کس دا  Kaon Jane Ay Kiss Da چھڈ دے بندیا میری تیری  Chadd De Bandeya Teri Meri ہتھ وچ کج نی آناں  Haath Wich Kujh Nai Aana آخر بندیا کلیاں کلیاں  Aakhir Bandeya Kaliyaan Kaliyaan دنیا تو ٹر جاناں  Duniya Toon Turr Jana کر لے کوشش بندیا اپنی  Kar Le Koshish Bandeya Apni چھڈ دے باقی کھیڑا  Chadd De Baqi Kherra اے دنیا اے چار دناں دی  Ay Dunya Hai Chaar Diyaan Di پا نہ کوئی بکھیڑا Paa Na Koi Bakherra نہ کج اتھے تیرا ھے تے Na Kujj Ethay Tera Hai Te نہ کج اتھے میرا Na Ethe Kujj Mera اپنا نفس سنبھال لے بندیا Apna Nafs Sambhaal Le Bandeya  چھڈ دے باقی کھیڑا Chadd De Baaqi Kherra باہر چاتی ماراں تے  Baahar Chaati M...

Abhi Waqt Hai, Abhi Saans Hai Ghazal By Itbaaf Abrak | Raaz Ki Batain

،ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ، ﺍﺑﮭﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﮨﮯ Abhi Waqt Hai, Abhi Saans Hai, ،ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ، ﺍﺑﮭﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﮨﮯ Abhi Waqt Hai, Abhi Saans Hai, ﺍﺑﮭﯽ ﻟﻮﭦ ﺁ، ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻤﺸﺪﮦ Abhi Laot Ao, Mere Gumshuda, ،ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺎﺯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺿﺒﻂ ﭘﺮ Mujhe Naaz Hai Mere Zabt Par, ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﺮ ﺭﻻ، ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻤﺸﺪﮦ Mujhe Phir Rula Mere Gumshusha ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﮟ Ye Nahi Keh Tere Firaaq Men, Main ﺍﺟﮍ ﮔﯿﺎ ﯾﺎ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ Ujarr Gaya Ya Bikhar Gaya, ﮨﺎﮞ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺟﻮ ﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ Haan Muhabbatoon pe Jo Maan Tha, Wo ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻤﺸﺪﮦ Nahi Raha Mere Gumshuda, ،ﻣﺠﮭﮯ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﮯ Mujhe Ilm Hai Keh Tu Chaand Hai, ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ Kisi Aur, Magar Aik Pall ﻣﯿﺮﮮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺣﯿﺎﺕ ﭘﺮ، ﺫﺭﺍ Mere Aasmaan E Hayat Par, Zara ﺟﮕﻤﮕﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻤﺸﺪﮦ Jagmaga Mere Gumshuda ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ، ﺟﻮ Tere Eltifat Ki Barshain, Jo ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ ﻣﺠﮭﮯ Mere Nahi To Bata Mujhe  ،ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺷﺖ ﭼﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻟﺌﯿﮯ Tere Dasht Chah Men Kis Liye, ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻼ، ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻤﺸﺪﮦ Mera Dil Jala Mere Gumshuda ﮔﮭﻨﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ...

Raaz Kate Gi Pu Phuute Gi By Iftikhar Iffi Sahab, Raaz Ki Batain Khuwab Naak Afsane

رات کٹے گی پو پھوٹے گی  Raat Kate Gi Pu Puute Gi افتخار افی رات کٹے گی پو پھوٹے گی  Raat Kate Gi Pu Phuute Gi وقت کی آنکھیں دیکھیں گی  Waqt Ki Aankhain Dekhain Gi ہاتھ کی روٹی کھانے والے  Haath Ki Roti Khane Wale محل منار بنانے والے  Mahel o Minaar Banane Wale آدھے پیٹ نہ سوئیں گے Aadhe Pait Na Soeen Gay اب کسی مزدور کی بیٹی  Ab Kisi Mazdoor Ki Beti بالوں میں اگتی چاندی کے خوف سے آنکھ نہ موندے گی ۔ Baloon Men Ugti Chaandi Ke Khaof Se Aankh Na Moonde Gi محنت کش کا خون پسینہ  Mehnat Khash Ka Khoon Paseena زر والوں کا چیر کے سینہ  Zarr Waloon Ka Cheer Ke Seena اپنا حق وصولے گا Apna Haq Wusoole Ga دم سادھے بیٹھی ہے ظلمت  Dum Saadhe Baithi Hai Zulmat لہو سے روشن دیئے کے آگے  Lahoo Se Raoshan Diye Ke Aage کانپ رہی ہے  Kaamp Rahi Hai دیکھ رہا ہوں Dekh Raha Hon امیدیں بر آئیں گی  Umeedein Barr Aayeen Gi دکھ کی گھڑیاں جائیں گی  Dukh K...