Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Yasir Gohar

Poem Main Sakht Bezaar Rehta Hon By Yasir Gohar

  میں سخت بیزار رہتا ہوں محبت نیلا تھوتھا ہے زہر ہے   مجھے میری نفرتوں سے مراسم بڑھانے ہیں   مذھبی دوستوں کے ساتھ گزارا اکتاہٹ کا لمحہ اس کا ٸ نات کا سب سےبدنما لمحہ ہے   مجھے گالیوں کے ورد میں دفن کیا جا ۓ کہ اس سے زیادہ پر خلوص چیز آج تک دریافت نہیں ہو ٸ ی   میں جن جن دوستوں کی محبوبا ٶ ں کو جنسی وحشت میں سوچتا رہتا ہوں وہ سب میرے جنازے   میں شریک ہونے کا شرعی حق رکھتے ہیں   یاسر گوہر

Poem: Dhool Men Dhmalta Diyota By Yasir Gohar

  دھول میں دھمالتا دیوتا جزیرے خشک سمندروں کی پوجا کر کے بڑھاپے کے نشان ماتھے پہ لپیٹے سادھو   بَن ہواؤں میں ننگے بدن دھمالتے ہیں! تمہارے نام کا ایک خدا میری آنکھوں میں گھومتا ہے تو ہزاروں مدوجزر چاند کو چیر دیتے ہیں تاریک گلیاں معدے کے السر سے بھری روشنیوں کی دھول پھانکتی ہیں یاسر گوہر

Poem Mujasmoon Ka Shaher By Yasir Gohar | Yasir Gohar Poem 1

  مجسموں کا شہر چیخوں سے بھرا ہوا ہے زندگی کا منظر سسکیوں کے سر سے دوپٹے کھینچ اتار دیئے گئے ہیں ننگی آنکھوں میں طبلوں کی تھاپ اور سارنگی کی لئے سے لے کر  گھنگروؤں کی جھنکار تک  موت کی برہنہ رقاصہ مگن جھومتی ہے سارا شہر نیلی دھند کی چھتری تلے دفن ہے  اور ہر موڑ پر  مجسمے ہونٹوں میں سگار دبائے جھوم رہے ہیں یاسر گوہر

Takhleeq Kaar Ki Maot By Yasir Gohar

  تخلیق کار کی موت وہ اپنے بدنما ہاتھوں سے خدا کے خدوخال سینچتا ہے اور رب کی بارگاہ میں اپنے برش اور رنگوں کے ڈبوں کے حمل گرا دیتا ہے وہ وقت تخلیق کرتا ہے اس میں سفید رنگ بھرتا ہی ۔۔ کینوس ابسٹریکٹ ہو جاتا ہے اور چیخیں مارتا ہے وہ اپنی محبوبا ٶ ں کے ننگے خواب آنکھوں میں بھرتا ہے اور آنکھیں پینٹ کر دیتا ہے وہ اپنی غلیظ نظموں پر تھوکتا ہے ان سے ساری رات ہمبستری کرتا ہے اور ان کے مخمور جسموں کے ٹکرے دانتوں سے اٹھا کر کاغذ کے گٹر میں بہا دیتا ہے اسے تخلیق کے نام سے نفرت ہے اور تخلیق اسکی ان بی اہی   سہاگن ہے وہ جھولتی ہوئی لاشوں کے انبار اکٹھے کرتا ہے افسانوں کو کرداروں سے بھرتا ہے اور ویران سڑکوں پر کپڑے اتار کر بھاگنے لگتا ہے وہ سانسوں کے ریشے کلائےمکس کے ٹوکے سے الگ کرتے کرتے کسی نامکمل ناول کے آخری سین کی نبض تھام لیتا ہے اسکی تصویر لاکھوں کی بکتی ہے ۔۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ادیب بن جاتا ہے اسکی شاعری یونیورسٹیوں کے سلیبس کا حصہ بنتی ہے ۔۔۔ یاسرگوہر