Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Saeed Ashar

Tumheen Yaad Ho Keh Na Yaad Ho......, By Saeed Ashar Sahab

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو  سعید اشعرؔ وحید قریشی سے جب میری پہلی ملاقات ہوئی ان کی مونچھیں پوری طرح نہیں آئی ہوئی تھیں۔ پھر ان کی مونچھیں اور داڑھی دونوں آ گئیں۔ اس قدر آئیں کہ منہ چھوٹا لگنے لگا۔ ایک بار سوزوکی میں پیچھے بیٹھے ہم دونوں کہیں جا رہے تھے ایک خوبصورت لڑکی سوار ہوئی۔ اس نے وحید قریشی سے کہا۔ "بابا جی ساتھ ہو جائیں۔" میرے منہ سے بھی بے اختیار نکلا۔ "ابا جی ذرا آگے ہو جائیں۔" کسی سواری کو تعجب نہیں ہوا۔ شروع سے زود رنج، دانش ور اور صاحبِ کردار ہیں۔ جو کہہ دیا حرفِ آخر ہے۔ دس پروفیسر بھی پھر انھیں قائل نہیں کر سکتے۔ ایک بار بڑے مزے میں تھے۔ مجھے فرمایا۔ "شروع شروع میں، میں آپ کو بہت بڑا شاعر سمجھتا تھا۔" کالج کا زمانہ تھا ایبٹ آباد پوسٹ گریجویٹ کالج کے بورڈنگ ہاؤس میں ہم اکٹھے رہتے تھے۔ بی ایس سی کے تین لڑکے ہر وقت ہمارے گروپ میں رہتے۔ ان میں سے ایک کی صورت، آواز اور باتیں بہت ہی معصوم تھیں۔ وحید قریشی اس کو جنوں، بھوتوں اور ڈائنوں کے قصے سناتے۔ وہ پریشان ہوتا۔ ان کو مزہ آتا۔ بورڈنگ ہاؤس کی مشرقی سمت کالج کا گراؤنڈ اور شمالی سمت ایک...