افسانہ. بھول آج نیتسیا گنگا کے کنارے بیٹھ کر اپنے خیالوں میں غوطے لگا رہی تھی جب وہ گھر سے نکلی تھی تو صرف یہی سوچ رہی تھی کہ وہ گنگا میں ڈوب کر اپنی جان دے دیگی وہ مر جائے گی لیکن اب وہ اڈانوں، مادھو اور اس پریوار کے کسی بھی سدسیہ کو اپنی صورت دکھانا گوارہ نہیں کریگی چاہے اسکے ساتھ جو بھی ہو جائے بلکہ اسے گھٹ گھٹ کر ہی کیوں نہ دم توڑنا پڑے پھر بھی اب وہ کسی بھی حال میں اس پریوار کی جانب منہ نہ کرے گی آج وہ صرف گنگا اسنان ہی نہیں بلکہ ہمشہ کیلئے گنگا میں سما جائے گی اس رات تو اسکے ساتھ عجب واقعہ ہوا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس اڈانو اور مادھو پریوار کے سب کے سب لوگ اس حد تک گر سکتے ہیں اس دن کے قبل اس نے اڈانو پریوار کے بارے میں یہی سوچ رکھا تھا کہ یہ سبھیہ اور سوشیل پریوار ہے اس پریوار میں کسی بات کا کوئی فرق نہیں مانا جاتا ہے اور نہ ہی کسی بات کا برا، نہ ذات دھرم اور نہ ہی اونچ نیچ کا، اس پریوار کے سبھی لوگ ایک دوسرے کو پیار و محبت سے دیکھا کرتے ہیں لیکن اس واقعہ نے اسکی نظریں کھول کر رکھ دی تھیں اس نے پریوار کے ایک ایک فرد کے کارنامے اور انکے مریادے کو بکھیر کر ...
Urdu Poems, Urdu Ghazals, Afsane, Stories, Columns, Politics,