Skip to main content

Poem Halqe By Riffat Jabeen

 

حلقے

مجھے بولا گیا ہے کہ میری آنکھ کے نیچے حلقے ہیں
اور پوچھا گیا ہے کہ بی بی یہ کاہے کو پڑتے ہیں

میرے پیارے سوال پوچھنے والے!!!

میرے کمرے میں رات آتی ہے جو گزرنے میں نہیں آتی
جو بڑی لمبی ،کالی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرنے میں نہیں آتی

آنکھ جھپکنے میں سو جانے والو !خوش نصیبو!
تمہیں معلوم کیا کہ رات کتنی لمبی ہوتی ہے
مجھے روز اپنے آپ سے بات کرنی ہوتی ہے
اور خود سروں سے بات کتنی لمبی ہوتی ہے؟؟
اور

ایک چڑیل شام ڈھلے سے پھرنے لگتی ہے
بال کھولے، دانت نکو سے پھرنے لگتی ہیے
سونے لگو تو پنجے گاڑ جاتی ہے
اک اک خواب اجاڑ جاتی ہے
امید کا جو دیا جلا کے جاتی ہوں
پکڑ کے اکھاڑ جاتی ہے
اور

اس سمے میں کھینچ کر لے جاتی ہے
جب میں مر گئی تھی۔۔۔۔۔
مجھے میرا مرا منہ دکھاتی ہے
مجھے اس سمے سے ڈراتی ہے

تو پھر یوں ہے میرے حبیب کہ مجھے ڈر لگتا ھے
تو پھر یوں ھے میرے حبیب کہ حلقہ پڑتا ہے

رفعت جبیں

 

Comments