Skip to main content

Takhleeq Kaar Ki Maot By Yasir Gohar

 

تخلیق کار کی موت

وہ اپنے بدنما ہاتھوں سے خدا کے خدوخال سینچتا ہے اور رب کی بارگاہ میں اپنے برش اور رنگوں کے ڈبوں کے حمل گرا دیتا ہے

وہ وقت تخلیق کرتا ہے اس میں سفید رنگ بھرتا ہی ۔۔ کینوس ابسٹریکٹ ہو جاتا ہے اور چیخیں مارتا ہے

وہ اپنی محبوباٶں کے ننگے خواب آنکھوں میں بھرتا ہے اور آنکھیں پینٹ کر دیتا ہے

وہ اپنی غلیظ نظموں پر تھوکتا ہے ان سے ساری رات ہمبستری کرتا ہے اور ان کے مخمور جسموں کے ٹکرے دانتوں سے اٹھا کر کاغذ کے گٹر میں بہا دیتا ہے

اسے تخلیق کے نام سے نفرت ہے اور تخلیق اسکی ان بیاہی  سہاگن ہے

وہ جھولتی ہوئی لاشوں کے انبار اکٹھے کرتا ہے افسانوں کو کرداروں سے بھرتا ہے اور ویران سڑکوں پر کپڑے اتار کر بھاگنے لگتا ہے

وہ سانسوں کے ریشے کلائےمکس کے ٹوکے سے الگ کرتے کرتے کسی نامکمل ناول کے آخری سین کی نبض تھام لیتا ہے

اسکی تصویر لاکھوں کی بکتی ہے ۔۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ادیب بن جاتا ہے اسکی شاعری یونیورسٹیوں کے سلیبس کا حصہ بنتی ہے ۔۔۔

یاسرگوہر

Comments

Post a Comment